Sufinama

ابرو نے چشم ناز نے مژگان یار نے

اوگھٹ شاہ وارثی

ابرو نے چشم ناز نے مژگان یار نے

اوگھٹ شاہ وارثی

MORE BY اوگھٹ شاہ وارثی

    ابرو نے چشم ناز نے مژگان یار نے

    گھائل کیا مجھے انہیں دو تین چار نے

    واعظ غرض یہ تھی کہ در بت کدہ پہ ہم

    در پردہ کل گئے تھے کسی کو پکارنے

    عاشق ہزاروں صورت پروانہ گر پڑے

    الٹی نقاب رخ سے جو محفل میں یار نے

    سودا رہا کہ عشق بتاں میں ہے فائدہ

    ہم کو کیا تباہ اسی کار و بار نے

    کیوں بار بار جائیں نہ ہم کوئے یار میں

    مجبور کر دیا ہے دل بے قرار نے

    لازم نہیں بتو تمہیں دعویٰ خدائی کا

    پیدا کیا ہے اس لئے کیا کردگار نے

    مجبور ہو کے بیٹھ رہے کوئے یار میں

    ہم کو جواب دے دیا جب اختیار نے

    دل بہر نذر یار کے آگے جو لے گئے

    بولا کہ آپ لائے ہیں صدقہ اتارنے

    صحرا میں ٹھہرے اور کبھی دشت میں پھرے

    ہم کو دکھائی سیر یہ فصل بہار نے

    اوگھٹؔ غرور کیوں نہ بتوں کو ہو اس قدر

    ان کو حسیں بنایا ہے پروردگار نے

    مآخذ:

    • Book : فیضان وارثی المعروف زمزمۂ قوالی (Pg. 16)
    • Author : اوگھٹ شاہ وارثی
    • مطبع : جید برقی پریس، دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY