Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

بہزاد لکھنوی

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

بہزاد لکھنوی

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں

اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے

اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا

اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم

میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پس مشکل آ جائے

اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں

اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ مرا دل آ جائے

اے برق تجلی کوندھ ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے

میں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے

کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے

مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

ویڈیو
This video is playing from YouTube

Videos
This video is playing from YouTube

نیارا نور

نیارا نور

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے