Font by Mehr Nastaliq Web

جب عرب کے چمن میں وہ نور خدا ہر طرف اپنا جلوہ دکھانے لگا

اکبر وارثی میرٹھی

جب عرب کے چمن میں وہ نور خدا ہر طرف اپنا جلوہ دکھانے لگا

اکبر وارثی میرٹھی

MORE BYاکبر وارثی میرٹھی

    جب عرب کے چمن میں وہ نور خدا ہر طرف اپنا جلوہ دکھانے لگا

    کفر غارت ہوا بت گرے ٹوٹ کر منہ پہاڑوں میں شیطاں چھپانے لگا

    پیدا ہوتے ہی بولے کہ یا امتی حق نے فرمایا کہ میں نے سب بخش دی

    غم نہ کھا اے میرے پیارے نبی ابر رحمت مرا جوش کھانے لگا

    کیا بشر کیا ملک کیا زمیں کیا فلک عرش سے فرش تک شرق سے غرب تک

    دیکھ کر نور حق پر کوئی یک بیک آمد آمد کا مژدہ سنانے لگا

    ہر طرف نور ابر ہویدا ہوا جس نے دیکھا وہیں دل سے شیدا ہوا

    جب عرب میں وہ محبوب پیدا ہوا سب کو جتنے حسیں تھے گھٹانے لگا

    پھر تو شریعت کی موجیں اٹھیں چار جانب نبوت کی فوجیں بڑھیں

    صاف اللہ سے باتیں ہونے لگیں پاس روح الامیں آنے جانے لگا

    کنگورے کسریٰ کے گرنے لگے ڈوبتے کلمہ پڑھ پڑھ کر ترنے لگے

    آگ آتش کدوں کی بجھانے لگا خشک ساون میں پانی بہانے لگا

    اکبرؔ خستہ کی ہیں یہ چار التجا اس میں کوئی تو پوری ہو بہر خدا

    یا تو جلوہ دکھا یا مدینہ بلا ورنہ تسکین دے دل کو ٹھکانے لگا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے