Font by Mehr Nastaliq Web

کسی کی چاہ بھی دل میں مرے اے نازنیں نکلی

امیر مینائی

کسی کی چاہ بھی دل میں مرے اے نازنیں نکلی

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    کسی کی چاہ بھی دل میں مرے اے نازنیں نکلی

    ترے تیروں نے گھر کی تلاشی لی کہیں نکلی

    تری صورت کچھ ایسی کلک قدرت سے حسیں نکلی

    کہ اس کی ہر ادا سے شان صورت آفریں نکلی

    الٰہی قتل پر میرے وہ اتراتے ہیں کیوں اتنا

    بدن سے جان نکلی یا دہن سے آفریں نکلی

    دل مجنوں سے نکلی آہ یا بجلی کوئی چمکی

    کہ محمل سے تڑپ کر لیلی محمل نشیں نکلی

    شریک حال عاشق بیکسی میں کون ہوتا ہے

    جو نکلی بھی تو کچھ دل سوز آہ آتشیں نکلی

    تن ہیجان کو زیر خاک کیا دھر دھر کے پیسا ہے

    ستم کرنے میں استاد و آسماں کی بھی زمیں نکلی

    نہ چھوڑا ساتھ ان کا میری تربت پر بھی آنے میں

    بڑی پابند اپنی وضع کی چین جبیں نکلی

    جنوں اب تک سنا تھا ساتھ چولی اور دامن کا

    گریباں کو نکلتے دیکھ کر کیوں آستیں نکلی

    غش آیا وصل میں مجھ کو تو بولی نازکی اس کی

    کہ لو مجھ سے بھی ان کی ناتوانی نازنیں نکلی

    امیرؔ ابھرا جو وہ جوبن ملا دل کا پتا مجھ کو

    یہی دنوں اچکے چور تھے چوری یہیں نکلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے