Font by Mehr Nastaliq Web

اے برق حسن یار یہ اچھا ظہور تھا

امیر مینائی

اے برق حسن یار یہ اچھا ظہور تھا

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    اے برق حسن یار یہ اچھا ظہور تھا

    دیدار کو کلیم تھے جلنے کو طور تھا

    جب تک کہ چشم شوق میں وحدت کا نور تھا

    جس بام پر نگاہ پڑی کوہ طور تھا

    جتنی تھی عاجزی وہ مجھی کو عطا ہوئی

    بخشا خدا نے آپ کو جتنا غرور تھا

    اے شور حشر قہر کیا کیوں جگا دیا

    گوشہ مزار کا مجھے آغوش حور تھا

    ایک نیم جاں کا کام نہ پورا ہوا امیرؔ

    قاتل کو تیغ ناز پہ ناحق غرور تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Majmua-e-Qawwali, Part 4 (Pg. 24)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے