میری فنا میں گر ہے بقا پھر کسی کو کیا
میری فنا میں گر ہے بقا پھر کسی کو کیا
پردے کو میں رکھا نہ رکھا پھر کسی کو کیا
پالوں گا اپنے آپ سزا پھر کسی کو کیا
کہتا ہوں جو لفظِ انا پھر کسی کو کیا
یہ بات ہو روا نہ روا پھر کسی کو کیا
واعظ سیکھا نہ قاعدے مجھ کو سجود کے
پرواز میری دیکھ تو باہر حدود کے
جذبات بحر و بر میں ہیں میری نمود کے
یہ خیر و شر صفات مری ہی وجود کے
باہر برا ہوں یا کہ بھلا پھر کسی کو کیا
شیریں دہن کے ساز سے نغمے سنا تو میں
بے ہوش رہ کے ہوش کی باتیں کیا تو میں
ساقی کے پائے ناز پہ سجدے کیا تو میں
لقمہ حرام کھا کے بھی سالک رہا تو میں
کافر بنا تو آپ بنا پھر کسی کو کیا
ہمدمؔ ہے رند گر چہ نہیں متقی عبید
اے شیخ شرع تم کو روا پنڈتوں کو دید
تم جانتے نہیں ہو اگر سرخ اور سفید
کیوں پوچھتے ہو عاشقِ خواجہ معیں سے بھید
اس نے کہا، کہا نہ کہا پھر کسی کو کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.