Font by Mehr Nastaliq Web

میری فنا میں گر ہے بقا پھر کسی کو کیا

اسراراللہ غوثی

میری فنا میں گر ہے بقا پھر کسی کو کیا

اسراراللہ غوثی

MORE BYاسراراللہ غوثی

    میری فنا میں گر ہے بقا پھر کسی کو کیا

    پردے کو میں رکھا نہ رکھا پھر کسی کو کیا

    پالوں گا اپنے آپ سزا پھر کسی کو کیا

    کہتا ہوں جو لفظِ انا پھر کسی کو کیا

    یہ بات ہو روا نہ روا پھر کسی کو کیا

    واعظ سیکھا نہ قاعدے مجھ کو سجود کے

    پرواز میری دیکھ تو باہر حدود کے

    جذبات بحر و بر میں ہیں میری نمود کے

    یہ خیر و شر صفات مری ہی وجود کے

    باہر برا ہوں یا کہ بھلا پھر کسی کو کیا

    شیریں دہن کے ساز سے نغمے سنا تو میں

    بے ہوش رہ کے ہوش کی باتیں کیا تو میں

    ساقی کے پائے ناز پہ سجدے کیا تو میں

    لقمہ حرام کھا کے بھی سالک رہا تو میں

    کافر بنا تو آپ بنا پھر کسی کو کیا

    ہمدمؔ ہے رند گر چہ نہیں متقی عبید

    اے شیخ شرع تم کو روا پنڈتوں کو دید

    تم جانتے نہیں ہو اگر سرخ اور سفید

    کیوں پوچھتے ہو عاشقِ خواجہ معیں سے بھید

    اس نے کہا، کہا نہ کہا پھر کسی کو کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے