Font by Mehr Nastaliq Web

برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی

برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی

MORE BYساغر صدیقی

    برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    تا حد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں

    پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے

    میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    حوروں کی طلب اور مے و ساغرؔ سے ہے نفرت

    زاہد ترے عرفاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عزیز میاں

    عزیز میاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے