ان کے ناوک آکے سینے میں مرے کیا دیکھتے
ان کے ناوک آکے سینے میں مرے کیا دیکھتے
دل کے ہر گوشے میں ارمانوں کی دنیا دیکھتے
لطف تو جب تھا کہ ہم تو دیکھتے ان کا جمال
اور ہماری بے خودی کا وہ تماشا دیکھتے
باغ میں چھپ چھپ کے جانے کا نتیجہ مل گیا
کتنے شرمائے وہ جب نرگس کو دیکھا دیکھتے
طائعِ بیدار دکھلاتا تری صورت تو ہم
دیدۂ یعقوب سے خوابِ زلیخا دیکھتے
اشکِ حسرت کی فروانی بھی اک طوفان ہے
یوں تو قطرہ ہے جو بہہ جاتا تو دریا دیکھتے
جوشِ وحشت میں دکھاتے ہمتِ دستِ جنوں
ہم اگر کچھ وسعت دامانِ صحرا دیکھتے
قافلے پہنچے ہزاروں منزل مقصود تک
ہم اکیلے رہ گئے نقشِ کفِ پا دیکھتے
دید گل کے واسطے بلبل کی آنکھیں چاہیے
قیس کی آنکھوں سے بیدمؔ حسنِ لیلیٰ دیکھتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.