Font by Mehr Nastaliq Web

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے

مرزا غالب

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے

    یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

    صحبت رنداں سے واجب ہے حذر

    جائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے

    چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل

    بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے

    چاک‌ مت کر جیب بے ایام گل

    کچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے

    دوستی کا پردہ ہے بیگانگی

    منہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے

    دشمنی نے میری کھویا غیر کو

    کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے

    اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی

    یار ہی ہنگامہ چاہیے چاہیے

    منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

    ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

    غافل ان مہ طلعتوں کے واسطے

    چاہنے والا بھی اچھا چاہیے

    چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔ

    آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے