Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

داغ دہلوی

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

داغ دہلوی

MORE BYداغ دہلوی

    ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

    کن انکھیوں سے اس کو مگر دیکھ لینا

    فقط نبض سے حال ظاہر نہ ہوگا

    مرا دل بھی اے چارہ گر دیکھ لینا

    کبھی ذکر دیدار آیا تو بولے

    قیامت سے بھی پیشتر دیکھ لینا

    نہ دینا خط شوق گھبرا کے پہلے

    محل موقع اے نامہ بر دیکھ لینا

    کہیں ایسے بگڑے سنورتے بھی دیکھے

    نہ آئیں گے وہ راہ پر دیکھ لینا

    تغافل میں شوخی نرالی ادا تھی

    غضب تھا وہ منہ پھیر کر دیکھ لینا

    شب وعدہ اپنا یہی مشغلہ تھا

    اٹھا کر نظر سوئے در دیکھ لینا

    بلایا جو غیروں کو دعوت میں تم نے

    مجھے پیشتر اپنے گھر دیکھ لینا

    محبت کے بازار میں اور کیا ہے

    کوئی دل دکھائے اگر دیکھ لینا

    مرے سامنے غیر سے بھی اشارے

    ادھر بھی ادھر دیکھ کر دیکھ لینا

    نہ ہو نازک اتنا بھی مشاطہ کوئی

    دہن دیکھ لینا کمر دیکھ لینا

    نہیں رکھنے دیتے جہاں پاؤں ہم کو

    اسی آستانے پہ سر دیکھ لینا

    تماشائے عالم کی فرصت ہے کس کو

    غنیمت ہے بس اک نظر دیکھ لینا

    دیے جاتے ہیں آج کچھ لکھ کے تم کو

    اسے وقت فرصت مگر دیکھ لینا

    ہمیں جان دیں گے ہمیں مر مٹیں گے

    ہمیں تم کسی وقت پر دیکھ لینا

    جلایا تو ہے داغؔ کے دل کو تم نے

    مگر اس کا ہوگا اثر دیکھ لینا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے