Font by Mehr Nastaliq Web

دیا ایماں لگایا داغ اپنی پارسائی میں

اوگھٹ شاہ وارثی

دیا ایماں لگایا داغ اپنی پارسائی میں

اوگھٹ شاہ وارثی

دیا ایماں لگایا داغ اپنی پارسائی میں

خدا کو چھوڑ بیٹھے ان بتوں کی آشنائی میں

پیت کیے دھرم گیا اور بگڑے سارے کام

اپنے تھے سو بیری بھئے نام ہوا بدنام

تمہارے واسطے رسوا ہوئے ساری خدائی میں

پیتم تم پردیس گئے اور لے گئے مورا چین

تمرے کارن رام دہائی کلپت ہوں دن رین

تڑپتا ہوں میرے پیماں شکن تیری جدائی میں

وارث داتا آن بچاؤ ناؤ پھنسی منجدھار

سائیں آپن دیا کرو کہ لاگے بیڑا پار

تمہارا نام تو مشہور ہے مشکل کشائی میں

دھنی کریں کنگال کو صاحب غریب نواز

وارث گرو کا داسی اوگھٹؔ کرت ہے جگ میں راج

مزا ہے بادشاہی کا ترے در کی گدائی میں

اوگھٹؔ اب چپ سادھیے کہ بات نہ پہنچے دور

لٹا بیٹھا وہ نقد جاں کسی کی رونمائی میں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے