Font by Mehr Nastaliq Web

دور جب تک رہے ہم با دل ناشاد رہے

مولانا عبدالقدیر صدیقی

دور جب تک رہے ہم با دل ناشاد رہے

مولانا عبدالقدیر صدیقی

MORE BYمولانا عبدالقدیر صدیقی

    دور جب تک رہے ہم با دل ناشاد رہے

    پاس ہم تختۂ مشق ستم ایجاد رہے

    جو گزر جاتی ہے سر پر سے گزر جانے دے

    اپنے لب پر نہ کبھی شکوۂ بیداد رہے

    ربط باقی رہے محبوب و محب میں ہر دم

    ہم ستم کش رہیں اور وہ ستم ایجاد رہے

    میکدے سے ترے خالی نہ پھرا بادہ گسار

    تو سلامت رہے اور مے کدہ آباد رہے

    نہ ٹھکانہ ہے ہمارا نہ کوئی جائے قرار

    عمر بھر راہ طلب میں تیری برباد رہے

    ہوئی ہر ایک کی دو باتوں میں حل مشکل

    تیری نسبت سے جہاں ہم رہے استاد رہے

    دل کسی سے نہ لگا دست فشاں سب سے رہے

    عمر بھر قید تعلق سے ہم آزاد رہے

    جان دی حسرتؔ شیدا نے ترا لے کر نام

    تجھ کو اس چاہنے والے کی بھی کچھ یاد رہے

    مأخذ :
    • کتاب : سرودِ روحانی (Pg. 244)
    • اشاعت : Second

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے