چڑھانا پر منصور کو تدبیر کس کی ہے
کہو تو فتویٰ تکفیر کی تحریر کس کی ہے
سر مقتل کھڑا ہے کب سے یہ شوق شہادت میں
اٹھاؤ ہاتھ میں خنجر بس اب تاخیر کس کی ہے
خودی ناحق نہیں اس پتلۂ خاکی میں اے مولیٰ
یہ بندہ کس کا کہلا ہے اور تاثیر کس کی ہے
خجل ہیں مہر و مہ جن و ملائک اس کی صورت سے
الٰہی پتلۂ خاکی میں یہ تنویر کس کی ہے
کدھر ہے دھیان ناداں چشم عبرت سے تماشا کر
مکین قصر ہستی کون ہے تعمیر کس کی ہے
وہی سمجھے گا کچھ آگاہ ہے جو لفظ و معنی سے
یہ سورہ کون سے مصحف کی ہے تفسیر کس کی ہے
صفات کاملہ اس کی مقرر کنز مخفی ہے
رموز ذات حق ہو آئینا تقدیر کس کی ہے
نہ چھوٹے جس کے پھندے سے کبھی مرغ دل عالم
جہاں میں اس صفت کی زلف گرہ گیر کس کی ہے
کہاں تصویر میں لطف تکلم سخت حیران ہوں
دہان بے زباں فرحتؔ میں یہ تقریر کس کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.