ملے مجھ کو میرا بانکہ سنوریا آرزو دارم
ملے مجھ کو میرا بانکہ سنوریا آرزو دارم
بچھاؤں ہر قدم پر یہ نظریہ آرزو دارم
حرم میں جا کے دیکھوں بت کدہ میں بھی اسے ڈھونڈوں
پھروں تالاش میں شام و سحریا آرزو دارم
رنگاؤں گروئے کپڑے بنوں جوگن میں اس کارن
بجاؤں نام کی اس کے بنسریا آرزو دارم
محبت نے کیا بدنام اس کی کچھ نہیں پرواہ
پیا کی ہو مگر مجھ پر نظریہ آرزو دارم
پیا چاہے جسے ہو وہ سہاگن یہ مثل سچ ہے
ہو کب آباد یہ سونی سحریا آرزو دارم
ستا ڈالا ستا ڈالا ہے بالکل شام فرقت نے
الٰہی وصل کی کب ہو سحریا آرزو دارم
ملے ایسا کوئی رہبر بتائے راستہ اس کا
ہوئی مدت کہ بھولا ہوں ڈگریا آرزو دارم
ملا ہے کون مرشد کے سوا اس ملنے والے سے
مجھے آقا دکھائے گا نگریا آرزو دارم
کیا ہے خنجر فرقت نے اس آزاد کو گھائل
لگا دے ایک وصلت کی کٹریا آرزو دارم دارم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.