Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے

فنا بلند شہری

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے

فنا بلند شہری

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے

بس اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا کرم ہے

یہ عشق کی معراج ہے یا ان کا کرم ہے

ہر وقت مرے سامنے تصویر صنم ہے

کعبے سے تعلق ہے نہ بت خانے کا غم ہے

حاصل مرے سجدوں کا ترا نقش قدم ہے

دیوانوں پہ کس درجہ ترا لطف و کرم ہے

بخشا ہے جو غم تو نے وہی حاصل غم ہے

سر جب سے جھکایا ہے در یار پہ میں نے

محراب خودی جلوہ گہہ شمع حرم ہے

کیا کام زمانے سے اسے اے شہ خوباں

تقدیر میں جس کی تری فرقت کا الم ہے

کونین بدل جائے مگر تو نہ بدلنا

تیرے ہی سبب اہل محبت کا بھرم ہے

پلکوں پہ بکھرتے ہیں تری یاد کے موتی

ہر اشک ندامت ترا انداز کرم ہے

ظاہر میں کوئی کعبہ کوئی دیر و کلیسا

باطن میں ہر اک چیز ترا نقش قدم ہے

کر اپنی نظر سے مرے ایمان کا سودا

اے دوست تجھے میری محبت کی قسم ہے

یہ عمر گزر جائے مگر ہوش نہ آئے

سر شوق عبادت میں در یار پہ خم ہے

اے دوست ترے عشق میں پہنچا ہوں یہاں تک

آنکھوں میں صنم خانہ ہے سینے میں حرم ہے

کس طرح فناؔ چھوڑوں صنم خانۂ الفت

حاصل مرے ایمان کا دیدار صنم ہے

دنیا سے نرالی ہے فناؔ مقتل الفت

اس مقتل الفت میں جو سر ہے وہ قلم ہے

ویڈیو
This video is playing from YouTube

Videos
This video is playing from YouTube

قمر وارثی

قمر وارثی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے