Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا

فنا بلند شہری

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا

فنا بلند شہری

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا

دل بے خبر گردش ایام رہے گا

مٹ جائے گا ہر نقش خیال غم ہستی

لیکن ورق دل پہ ترا نام رہے گا

کیوں ڈر ہے گناہوں کے سبب حشر کے دن سے

ہم جانتے ہیں ان کا کرم عام رہے گا

پیغام تو آئیں گے بہت دیر و حرم سے

لیکن تری چوکھٹ سے مجھے کام رہے گا

مے خانہ سلامت ہے اگر تیری نظر کا

لبریز مئے عشق سے ہر جام رہے گا

دامن ہے اگر تیرا مرے دست طلب میں

آغاز سے بہتر مرا انجام رہے گا

جائے گی نہ دل سے ترے عارض کی محبت

زلفوں کا تصور مجھے ہر شام رہے گا

آنکھیں ہی نہیں تیری فناؔ دید کے قابل

تو جلوہ گہہ یار میں ناکام رہے گا

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے