Sufinama

جہاں میں جہاں جس کو ہم دیکھتے ہیں

اوگھٹ شاہ وارثی

جہاں میں جہاں جس کو ہم دیکھتے ہیں

اوگھٹ شاہ وارثی

MORE BY اوگھٹ شاہ وارثی

    جہاں میں جہاں جس کو ہم دیکھتے ہیں

    تمہیں کو تمہاری قسم دیکھتے ہیں

    طلب گار تیرے بہ چشم حقیقت

    تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

    برابر ہیں گبرو مسلمان ہم کو

    زیادہ کسی کو نہ کم دیکھتے ہیں

    تیرے عاشقوں کو نہ دوزخ کا ڈر ہے

    نہ حسرت سے سوئے ارم دیکھتے ہیں

    طبیبوں نے سمجھا ہے کیا یہ تماشہ

    میری نبض کیوں دم بدم دیکھتے ہیں

    نہیں بند ہے باب احسان وارثؔ

    ہم ان کا برابر کرم دیکھتے ہیں

    لڑی ہے کسی گل سے کیا آنکھ اوگھٹؔ

    تمہیں مضطر و چشم نم دیکھتے ہیں

    مآخذ:

    • Book : فیضان وارثی المعروف زمزمۂ قوالی (Pg. 10)
    • Author : اوگھٹ شاہ وارثی
    • مطبع : جید برقی پریس، دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY