Font by Mehr Nastaliq Web

حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں

جاوید اختر

حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں

جاوید اختر

MORE BYجاوید اختر

    حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں

    آفریں آفریں آفریں آفریں

    تو بھی دیکھے اگر تو کہے ہم نشیں

    آفریں آفریں آفریں آفریں

    ایسا دیکھا نہیں خوب صورت کوئی

    جسم جیسے ہے اجنتا کی مورت کوئی

    جسم نغمہ کوئی جسم خوشبو کوئی

    جسم جیسے مچلتی ہوئی راگنی

    جسم جیسے مہکتی ہوئی چاندنی

    جسم جیسے کہ سورج کی پہلی کرن

    جسم ترشا ہوا دلکش و دل نشیں

    صندلیں صندلیں مرمریں مرمریں

    آفریں آفریں آفریں آفریں

    چہرہ اک پھول کی طرح شاداب ہے

    چہرہ اس کا ہے یا کوئی مہتاب ہے

    چہرہ جیسے کلی چہرہ جیسے کنول

    چہرہ جیسے تصور بھی تصویر بھی

    چہرہ اک خواب بھی چہرہ تعبیر بھی

    چہرہ کوئی الف لیلیٰ کی داستاں

    چہرہ اک پل یقیں چہرہ اک پل گماں

    چہرہ جیسا کہ چہرہ کہیں بھی نہیں

    ماہرو ماہرو مہ جبیں مہ جبیں

    آفریں آفریں آفریں آفریں

    آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا

    جام دو اور دونوں ہی دو آتشہ

    آنکھیں یا میکدے کے یہ دو باب ہیں

    آنکھیں ان کو کہوں یا کہوں خواب ہیں

    آنکھیں نیچی ہوئیں تو حیا بن گئیں

    آنکھیں اونچی ہوئیں تو دعا بن گئیں

    آنکھیں اٹھ کر جھکیں تو ادا بن گئیں

    آنکھیں جھک کر اٹھیں تو قضا بن گئیں

    آنکھیں جن میں ہے قید آسمان و زمیں

    نرگسیں نرگسیں سرمگیں سرمگیں

    آفریں آفریں آفریں آفریں

    زلف جاناں کی بھی لمبی ہے داستاں

    زلف کی میرے دل پر ہیں پرچھائیاں

    زلف جیسے کہ امڈی ہوئی ہو گھٹا

    زلف جیسے کہ ہو کوئی کالی بلا

    زلف الجھے تو دنیا پریشان ہو

    زلف سلجھے تو یہ دید آسان ہو

    زلف بکھرے سیہ رات چھانے لگے

    زلف لہرائے تو رات گانے لگے

    زلف زنجیر ہے پھر بھی کتنی حسیں

    ریشمیں ریشمیں عنبریں عنبریں

    آفریں آفریں آفریں آفریں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نصرت فتح علی خان

    نصرت فتح علی خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے