Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

انشا اللہ خان

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

انشا اللہ خان

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی

تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

خیال ان کا پرے ہے عرش اعظم سے کہیں ساقی

غرض کچھ اور دھن میں اس گھڑی مے خوار بیٹھے ہیں

بسان نقش پائے رہرواں کوئے تمنا میں

نہیں اٹھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں

یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں

نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں

کہیں ہیں صبر کس کو آہ ننگ و نام ہے کیا شے

غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یک بار بیٹھے ہیں

کہیں بوسے کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے

ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں ہشیار بیٹھے ہیں

نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو

جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بے کار بیٹھے ہیں

نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے

ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں

کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ

غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے