Font by Mehr Nastaliq Web

کسی سے میری منزل کا پتا پایا نہیں جاتا

مخمور دہلوی

کسی سے میری منزل کا پتا پایا نہیں جاتا

مخمور دہلوی

MORE BYمخمور دہلوی

    کسی سے میری منزل کا پتا پایا نہیں جاتا

    جہاں میں ہوں فرشتوں سے بھی واں جایا نہیں جاتا

    کسی صورت جہاں ہوش میں آیا نہیں جاتا

    مرے سر سے جنون عشق کا سایا نہیں جاتا

    دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا

    جہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتا

    مری گم گشتگی دیکھو اب اپنی جستجو میں ہوں

    انہیں کھویا ہے جب سے آپ کو پایا نہیں جاتا

    مرے ٹوٹے ہوئے پائے طلب کا مجھ پہ احساں ہے

    تمہارے در سے اٹھ کر اب کہیں جایا نہیں جاتا

    محبت ہو تو جاتی ہے محبت کی نہیں جاتی

    یہ شعلہ خود بھڑک اٹھتا ہے بھڑکا یا نہیں جاتا

    دم آخر مرا تار نفس بھی درس عبرت ہے

    کچھ اس صورت سے الجھا ہے کہ سلجھایا نہیں جاتا

    وہ دل تفویض کیجے جو دو عالم سے ہو مستغنی

    وہ دامن چاہیے مجھ کو جو پھیلایا نہیں جاتا

    محبت کے لئے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں

    یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا

    محبت اصل میں مخمورؔ وہ راز حقیقت ہے

    سمجھ میں آ گیا ہے پھر بھی سمجھایا نہیں جاتا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے