Font by Mehr Nastaliq Web

سرشت دل سے ناواقف مذاق دل نہیں سمجھا

مخمور دہلوی

سرشت دل سے ناواقف مذاق دل نہیں سمجھا

مخمور دہلوی

MORE BYمخمور دہلوی

    سرشت دل سے ناواقف مذاق دل نہیں سمجھا

    وہ کیا سمجھا جو غم کو زیست کا حاصل نہیں سمجھا

    مجھے پورا بھروسہ ہے تمہاری کارسازی پر

    کسی مشکل کو میں نے آج تک مشکل نہیں سمجھا

    کبھی طوف حرم میں تھے کبھی گرد صنم خانہ

    ہماری گمرہی دیکھو مقام دل نہیں سمجھا

    محبت جس کو دیتے ہیں اسے پھر کچھ نہیں دیتے

    اسے سب کچھ دیا ہے جس کو اس قابل نہیں سمجھا

    یہ راہیں التفات رہبر کامل سے کھلتی ہیں

    ابھی یہ مرحلہ گم کردۂ منزل نہیں سمجھا

    مزے کی بات ہے وہ سب کو اس قابل بناتا ہے

    اسی مختار کل نے مجھ کو اس قابل نہیں سمجھا

    ہمارا حال ہے مخمورؔ مستقبل کا آئینہ

    نہ سمجھا حال کو جس نے وہ مستقبل نہیں سمجھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے