Sufinama

میرے مہ جبیں نے بصد ادا جو نقاب رخ سے اٹھا دیا

اوگھٹ شاہ وارثی

میرے مہ جبیں نے بصد ادا جو نقاب رخ سے اٹھا دیا

اوگھٹ شاہ وارثی

MORE BY اوگھٹ شاہ وارثی

    میرے مہ جبیں نے بصد ادا جو نقاب رخ سے اٹھا دیا

    جو سنا نہ تھا کبھی ہوش میں وہ تماشا مجھ کو دکھا دیا

    ملا شب جو خواب میں وہ حسیں یہ کہا تھا نکلے گی حسرتیں

    یہ جفا یہ باد سحر نے کی چلی یوں کہ مجھ کو جگا دیا

    میں اگرچہ خاک میں مل چکا مگر ان کے دل میں غبار تھا

    کہ نشان قبر بھی ڈھونڈھ کر میرے سنگ دل نے مٹا دیا

    چھٹے قید دیر و حرم سے ہم ہوئے خواب وہ جو خیال تھے

    مجھے ساقیا مے بے خودی کا وہ جام تو نے پلا دیا

    تجھے دیکھ او بت خوش ادا پھری آنکھ ساری خدائی سے

    وہ جو یاد رہتی تھی صورتیں انہیں صاف دل سے بھلا دیا

    میں وہ مرغ خانہ خراب ہوں کہ چمن قفس کا ہے ذکر کیا

    لیا گر حسینوں نے مول بھی مجھے صدقہ کر کے اڑا دیا

    میرا گرچہ اوگھٹؔ نام ہے پر کرم ہے وارثؔ پاک کا

    زہے شان دم میں غنی کیا کہ گدا سے شاہ بنا دیا

    مآخذ:

    • Book: فیضان وارثی المعروف زمزمۂ قوالی (Pg. 11)
    • Author: اوگھٹ شاہ وارثی
    • مطبع: جید برقی پریس، دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY