Font by Mehr Nastaliq Web

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

مرزا غالب

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

    جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

    کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو

    عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے

    پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم

    برسوں ہوئے ہیں چاک‌ گریباں کیے ہوئے

    پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس

    مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے

    پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق

    سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے

    پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل

    ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے

    باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب

    نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے

    دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے

    پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے

    پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب

    عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے

    دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال

    صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے

    پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا

    جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے

    مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس

    زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے

    چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو

    سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے

    اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ

    چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے

    پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں

    سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے

    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن

    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے

    بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے