Font by Mehr Nastaliq Web

وہ جلی ہے یا خفی ہے کیا بیان ہو زباں سے

محمد سمیع

وہ جلی ہے یا خفی ہے کیا بیان ہو زباں سے

محمد سمیع

وہ جلی ہے یا خفی ہے کیا بیان ہو زباں سے

اسے سوچنے سمجھنے کی بساط ہو کہاں سے

تیری آرزو سے خالی ہے جو دل وہ بے سکوں ہے

تیری آرزو ہے جس کو اسے بھی سکوں کہاں سے

وہی جب تیرا ہے ہمدم یہی تیری بندگی ہے

بے نیاز رہ زمیں سے بے غرض ہو آسماں سے

سر نہاں ہے لیکن آ راز فاش کر دوں

جو نہ پا سکا ہے خود کو اسے پائے گا کہاں سے

ہر حد کے پار ہے وہ وہ حدوں میں بھی عیاں ہے

جو سما گیا نظر میں وہ خدا ہوا کہاں سے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے