Font by Mehr Nastaliq Web

نہ کر بے ہوش واں تک تو مجھے ہشیار جانے دے

رند لکھنوی

نہ کر بے ہوش واں تک تو مجھے ہشیار جانے دے

رند لکھنوی

MORE BYرند لکھنوی

    نہ کر بے ہوش واں تک تو مجھے ہشیار جانے دے

    تجلی گاہ تک شوق جمال یار جانے دے

    نہ رہ پابند کفر و دیں غرض رکھ اس کی الفت سے

    جو عاشق ہے تو قید جانے و زنار جانے دے

    قسم ہے تجھ کو اے دست جنوں سودائے کاکل کی

    جو اک تار گریباں تک مرا بیکار جانے دے

    بھلا کیا فائدہ کھولوں جو میں شکوؤں کے دفتر کو

    یوں ہی رہنے دے اس کو گو مگو اے یار جانے دے

    لگاوٹ چڑھ ہے ظاہر داریوں سے ان کو نفرت ہے

    نہ کر یہ چاپلوسی مجھ سے او عیار جانے دے

    برس کر تو نہ ٹھہرا چشم طوفاں زاں کو رونے پر

    نہ دے آنکھوں کو چھٹنے ابر گوہر بار جانے دے

    نہ لے جنس محبت دے کے دل بازار الفت میں

    یہ سودا بیچ دے گا رندؔ یہ بیوپار جانے دے

    مأخذ :
    • کتاب : Asli Guldasta-e-Qawwali (Pg. 24)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے