Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

سب کھل گیا طلسم جہاں کا جو راز تھا

نثار اکبرآبادی

سب کھل گیا طلسم جہاں کا جو راز تھا

نثار اکبرآبادی

سب کھل گیا طلسم جہاں کا جو راز تھا

جس پردے کو اٹھایا وہی پردہ ساز تھا

محمود اسی سبب سے غلام ایاز تھا

اس بندے کے لباس میں بندہ نواز تھا

کہہ دیں جو عشق لیلیٰ و مجنوں کا راز تھا

پردہ کشائے روئے حقیقت مجاز تھا

شب کو عجیب یار سے راز و نیاز تھا

میں محو تھا نیاز میں وہ مست ناز تھا

آتی تھی خاک حضرت منصور سے صدا

یہ مرد سرفروش عجب سرفراز تھا

میں تھا حضور یار ہوئی جب اذان صبح

پڑھتا نماز کون کہ وقت نیاز تھا

اپنی شب فراق بسر ہو گئی نثارؔ

ایسا دراز قصۂ زلف دراز تھا

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے