Font by Mehr Nastaliq Web

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

مرزا غالب

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

    کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

    میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل

    اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے

    کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے

    کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے

    غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر

    کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

    اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا

    ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

    کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ‌ گری کس کی ہے

    پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے

    موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے

    تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے

    بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے

    کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے

    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے