Font by Mehr Nastaliq Web

قاتل کو ہے زعم چارہ گری اب درد نہاں کی خیر نہیں

شکیل بدایونی

قاتل کو ہے زعم چارہ گری اب درد نہاں کی خیر نہیں

شکیل بدایونی

قاتل کو ہے زعم چارہ گری اب درد نہاں کی خیر نہیں

وہ مجھ پہ کرم فرمانے لگے شاید مری جاں کی خیر نہیں

اترا وہ خمار بادۂ غم رندوں کو ہوا ادراک ستم

کھلنے کو ہے مے خانے کا بھرم اب پیر مغاں کی خیر نہیں

اب تک تو کرم کی نظروں نے ہر فتنۂ دوراں روک لیا

اب دوش پہ زلفیں برہم ہیں اب نظم جہاں کی خیر نہیں

سوچا ہے شکیلؔ ان کے دل کو میں فتح کروں گا سجدوں سے

یا میری جبیں کی خیر نہیں یا کوئے بتاں کی خیر نہیں

مأخذ :
  • کتاب : سرودِ روحانی (Pg. 288)
  • اشاعت : Second

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے