دنیا مان گئی
دنیا مان گئی
تیر نظر کا او دلدارا
تو نے اس انداز سے مارا
ہو دنیا مان گئی
صبح بنارس گال ہیں تیرے
شام اودھ کی بال ہیں تیرے
چڑھتا سورج مست جوانی
دیکھ کے دنیا ہو دیوانی
زلف گھنیری یوں لہرائے
جیسے ساون جھوم کے آئے
کومل کومل انگ ہے تیرا
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا
ریشمی آنچل دست حنائی
قاتل تیری ہر انگڑائی
دیکھ کے جس کو من للچائے
پتلی کمر سو سو بل کھائے
پگ پگ دھرتی چوم رہی ہے
ناگن جیسی جھوم رہی ہے
سر سے پا تک چلتا جادو
کس کو رہے پھر دل پر قابو
چنچل نٹکھٹ شوخ حسینہ
لب پہ ہنسی اور دل میں کینہ
دل سے کھیلے پیار جتا کر
مارا سب کو اپنا بنا کر
ترچھی نظر کا کر کے اشارہ
ایک تو کیا لاکھوں کو مارا
ہو دنیا مان گئی
جان تمنا جان غزل ہے
حسن مجسم تاج محل ہے
کہلانے کو ماہ جبیں ہے
حسن مروت تجھ میں نہیں ہے
تیری ادائیں جان کی دشمن
ڈس لیتی ہیں بن کر ناگن
چاہنے والا چین گنوائے
روتے روتے نین گنوائے
امرت کہہ کر زہر پلائے
پینے والا جان سے جائے
اس کو تاکا اس کو لوٹا
کوئی نہ تیرے دام سے چھوٹا
ماری ایسی نین کٹاری
جو بھی لگا وہ زخم تھا کاری
ہو گیا ہر دل پارہ پارہ
بچ نہ سکا کوئی غم کا مارا
ہو دنیا مان گئی
اپنی حقیقت بھولنے والے
حسن کے بل پر پھولنے والے
پریت کی یہ تو ریت نہیں ہے
ہار ہے تیری جیت نہیں ہے
دیکھ جوانی ہے دیوانی
کب تک آخر یہ من مانی
بات پتے کی بتلاتا ہوں
وقت سے پہلے جتلاتا ہوں
پانی سر سے اونچا ہو کر
رکھ ہی دے گا تجھ کو ڈبو کر
آج سمجھ جا سمجھانے سے
فائدہ کیا کل پچھتانے سے
خوب سمجھ لے دل میں اپنے
ٹوٹیں گے یہ سارے سپنے
اب تو سمجھ قیصرؔ کا اشارہ
ہر کوئی گھبرا کے پکارا
ہو دنیا مان گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.