زندگی ایک کرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
زندگی ایک کرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
قیصر صدیقی سمستی پوری
MORE BYقیصر صدیقی سمستی پوری
زندگی ایک کرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
روٹھ جائے گی جب تجھ سے خوشیاں غم کے سانچے میں ڈھالنا پڑے گا
وقت ایسا بھی آئے گا ناداں تجھ کو کانٹوں پے چلنا پڑے گا
اتنا معذور ہو جائے گا تو اتنا مجبور ہو جائے گا تو
یہ جو مخمل کا چولا ہے تیرا یہ کفن میں بدلنا پڑے گا
کر لے ایماں سے دل کی صفائی چھوڑ دے چھوڑ دے تو برائی
وقت باقی ہے اب بھی سنبھل جا ورنہ دوزخ میں جلنا پڑے گا
ایسی ہو جائے گی تیری حالت کام آئے گی نہ دولت نہ طاقت
چھوڑ کر اپنی اونچی حویلی تجھ کو باہر نکلنا پڑے گا
جلوۂ حسن بھی جابجا ہے اور خطرات بھی ہے زیادہ
زندگانی کا یہ راستہ ہے ہر قدم پر سنبھلنا پڑے گا
باپ بیٹے یہ بھائی بھتیجے تیرے ساتھی ہیں سب جیتے جی کے
اپنے آنگن سے اٹھنا پڑے گا اپنے چوکھٹ سے ٹلنا پڑے گا
ہے بہت ہی بری چیز دنیا کیوں سمجھتا ہے دنیا کو اپنا
باز آ جا گناہوں سے ورنہ عمر بھر ہاتھ ملنا پڑے گا
پیار سے سب کو اپنا بنا لے جس قدر ہو سکے تو دعا لے
مت لگا آگ نفرت کی ناداں ورنہ تجھ کو بھی جلنا پڑے گا
بال سے بھی ہے باریک رستہ اور تلوار سے تیز تر ہے
اس پہ گٹھری گناہوں کی لے کر حشر میں تجھ کو چلنا پڑے گا
غم کے ماروں کی حالت پہ ناداں ہنس رہا ہے مگر یاد رکھنا
اشک بن بن کے آنکھوں سے اپنی ایک دن تجھ کو ڈھلنا پڑے گا
قبر میں جس گھڑی جائے گا تو نیکیاں کام آئیں گی تیرے
باز آ جا گناہوں سے ورنہ حشر تک ہاتھ ملنا پڑے گا
چاہتا ہے اگر سرخ روئی چاہتا ہے اگر نیک نامی
یہ ادا چھوڑنی ہوگی تجھ کو اس چلن کو بدلنا پڑے گا
ہے اگر تجھ کو انسان بننا تو یہ قیصرؔ میری بات سن لے
چھوڑنی ہوگی ہر اک برائی خواہشوں کو کچلنا پڑے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.