Font by Mehr Nastaliq Web

ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

قیصر صدیقی سمستی پوری

ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

قیصر صدیقی سمستی پوری

MORE BYقیصر صدیقی سمستی پوری

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    تیری اوقات کیا کیا تری شان ہے

    چار دن کی ہے یہ زندگانی تری

    رہنے والی نہیں نوجوانی تری

    خاک ہو جائے گی ہر نشانی تری

    ختم ہو جائے گی یہ کہانی تری

    چار دن کا تیرا مان سمان

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    تری اوقات کیا کیا تری شان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    راز ہستی کا اب تک نہ سمجھا کوئی

    ہے پرایا یہاں پر نہ اپنا کوئی

    حشر تک جینے والا نہ دیکھا کوئی

    موت سے آج تک بچ نہ پایا کوئی

    کچھ سمجھتا نہیں کیسا انسان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    یہ جو دنیا نظر آ رہی ہے حسیں

    چاٹ جائے نہ ایماں کو تیرے کہیں

    گود میں تجھ کو لے لے گی اک زمیں زمیں

    تجھ کو یہ بات معلوم ہے کہ نہیں

    اپنے ہی گھر میں تو اک مہمان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    اپنی کرنی کی ناداں سزا پائے گا

    وقت ہے باز آ ورنہ پچھتائے گا

    موت کے وقت کچھ بھی نہ کام آئے گا

    یہ خزانہ یہیں تیرا رہ جائے گا

    مال و دولت کا بیکار ارمان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    پیکر خاک ہے خاک ہو جائے گا

    تو اندھیرے میں اک روز کھو جائے گا

    اپنی ہستی کو غم میں ڈبو جائے گا

    قبر کی گود میں جا کے سو جائے گا

    تو مگر ساری باتوں سے انجان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    غم کے منجدھار میں اک کنارا بنے

    یا جبین وفا کا ستارا بنے

    سب کا اچھا بنے سب کا پیارا بنے

    آدمی آدمی کا سہارا بنے

    بس یہی آدمیت کی پہچان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    چار دن کی کہانی ہے یہ زندگی

    موت کی نوکرانی ہے یہ زندگی

    میت زندگانی ہے یہ زندگی

    دیکھ نادان فانی ہے یہ زندگی

    زندگی کے لیے کیوں پریشان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    کوئی چنگیز خاں اور نہ ہٹلر رہا

    کوئی مفلس نہ کوئی تونگر رہا

    کوئی بد تر رہا اور نہ بہتر رہا

    کوئی دارا نہ کوئی سکندر رہا

    جیتے جی سب تری آن ہے شان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    یہ کٹمب یہ قبیلے نہ کام آئیں گے

    یہ ترے بیٹا بیٹی نہ کام آئیں گے

    جو بھی ہیں تیرے اپنے نہ کام آئیں گے

    یہ محل اور دو محلے نہ کام آئیں گے

    موہ مایا میں تیری پھنسی جان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    اس زمیں کو کچل کے جو چلتا ہے تو

    اس طرح سے اچھل کے جو چلتا ہے تو

    یار میرے مچل کے جو چلتا ہے تو

    یوں تکبر میں ڈھل کے جو چلتا ہے تو

    موت کو بھول بیٹھا ہے نادان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    جھوٹی عظمت پے اتنا اکڑتا ہے کیوں

    مال و دولت پے اتنا اکڑتا ہے کیوں

    اچھی حالت پہ اتنا اکڑتا ہے کیوں

    اپنی طاقت پہ اتنا اکڑتا ہے کیوں

    بلبلے سے بھی نازک تری جان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    تیرا سب کچھ ہے بس زندگی کے لیے

    یہ جو ہے زندگی کی ادا چھوڑ دے

    کیوں نہ قیصرؔ بڑا تجھ کو دنیا کہے

    اک پل کی خبر بھی نہیں ہے تجھے

    سو برس کا مگر گھر میں سامان ہے

    ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نا معلوم

    نا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے