Font by Mehr Nastaliq Web

اس تیرے سر کی قسم فرق سر مو بھی نہیں

قمر جلالوی

اس تیرے سر کی قسم فرق سر مو بھی نہیں

قمر جلالوی

MORE BYقمر جلالوی

    اس تیرے سر کی قسم فرق سر مو بھی نہیں

    جس قدر ہم ہیں پریشاں ترے گیسو بھی نہیں

    موت نے کتنا کج اخلاق بنایا ہے مجھے

    لوگ روتے ہیں مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں

    رات بھر جلنا ہے آ جا ادھر اے پروانے

    قابل رحم یہاں میں بھی نہیں تو بھی نہیں

    اب تو دامن پہ لہو ہے کہو کیا کہتے ہو

    اب تو انکار ستم کا کوئی پہلو بھی نہیں

    جا تجھے ہم نے بس اے عمر رواں دیکھ لیا

    ہم تجھے اپنا سمجھتے تھے مگر تو بھی نہیں

    میری میت پہ یہ اظہار الم رہنے دے

    رونے والے تری آنکھوں میں تو آنسو بھی نہیں

    دل مایوس میں احساس خودی تک نہ رہا

    ایسا مرجھا گیا یہ پھول کہ خوشبو بھی نہیں

    سوچتا ہوں یہ کہ دنیا میں اندھیرا کیوں ہے

    تیرے چہرے پہ تو بکھرے ہوئے گیسو بھی نہیں

    کتنا ہمدرد ہے ہمدردی رہبر دیکھو

    کارواں لٹ گیا اور آنکھ میں آنسو بھی نہیں

    اے قمرؔ شب کے اندھیرے میں لحد ہے میری

    شمع تربت تو بڑی چیز ہے جگنو بھی نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عزیز میاں

    عزیز میاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے