Sufinama

رہی یار آنکھوں میں حسرت یہی ہے

اوگھٹ شاہ وارثی

رہی یار آنکھوں میں حسرت یہی ہے

اوگھٹ شاہ وارثی

MORE BY اوگھٹ شاہ وارثی

    رہی یار آنکھوں میں حسرت یہی ہے

    ہماری نماز اور عبادت یہی ہے

    خدائی میں ہے یہ اسی بت کا جلوہ

    کہ پردہ ہے سب اور حقیقت یہی ہے

    کہا وہ کہ منصور نے مرتے مرتے

    رہا حق زباں پر صداقت یہی ہے

    رہے چشم نم دل ہو پہلو میں مضطر

    سنا ہے نشان محبت یہی ہے

    میری قبر تک اس میرے درد دل نے

    دیا ساتھ میرا رفاقت یہی ہے

    حسیں جو نظر آیا اس کو دیا دل

    ہماری ہمیشہ سے عادت یہی ہے

    در شاہ وارثؔ پہ دم نکلے اوگھٹؔ

    تمنا یہی اور حسرت یہی ہے

    مآخذ:

    • Book: فیضان وارثی المعروف زمزمۂ قوالی (Pg. 21)
    • Author: اوگھٹ شاہ وارثی
    • مطبع: جید برقی پریس، دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY