Font by Mehr Nastaliq Web

کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل

ریاض خیرآبادی

کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل

ریاض خیرآبادی

MORE BYریاض خیرآبادی

    کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل

    ہوا کیا لٹ گیا دل مٹ گیا دل

    یہ کہہ کر دے دیا مجھ کو مرا دل

    ہمیں کوسے گا دے گا بددعا دل

    قیامت شوخ آفت چلبلا دل

    مرا دل اور پھر کیسا مرا دل

    اٹھے گا لطف صحبت کا ابھی تو

    نئے تم ہو نئے ہم ہیں نیا دل

    مزا دے جائے گی مجھ کو تری آنکھ

    مزا دے جائے گا مجھ کو مرا دل

    کسی سے یوں دغا کرتے نہیں ہیں

    ارے او بے مروت بے وفا دل

    ہمارا دل ہمارے کام کا ہے

    کہاں پائیں تمہارے کام کا دل

    بہت ہے جم کو اپنے جام پر ناز

    ذرا لانا مرا ٹوٹا ہوا دل

    اسے کس منہ سے کہتے ہو برا تم

    تمہیں کس منہ سے دیتا ہے دعا دل

    ابھر کر داغ لایا ہے نیا رنگ

    برابر دل کے ہے اک دوسرا دل

    حسینوں کو سمجھتا ہی نہیں کچھ

    عجب خودبیں عجب ہے خود نما دل

    ملیں گے حشر میں دل لینے والے

    ملے گا حشر میں بچھڑا ہوا دل

    حسین اس کو برا سمجھے بچی جان

    برا ہو کر بہت اچھا رہا دل

    گیا وہ داغ دے کر داغ لے کر

    نشانی دے گیا دل لے گیا دل

    وہی اچھا تھا اس چھاتی کی سل سے

    کسی بت سے بدل دیتا خدا دل

    خدا کو جان سونپی دل بتوں کو

    ہمارے پاس تھا کیا جان یا دل

    قیامت ہے تمہاری چلبلی شکل

    قیامت ہے ہمارا چلبلا دل

    تمہاری راہ میں وہ بھی پڑا ہے

    ذرا دیکھے ہوئے ٹوٹا ہوا دل

    ترے گیسو سے بل کی لے رہا ہے

    بہت او زلفوں والے بڑھ چلا دل

    کوئی اب مفت بھی خواہاں نہیں ہیں

    ریاضؔ ایسا گیا گزرا ہوا دل

    ریاضؔ آنکھوں میں پھرتی ہیں وہ شکلیں

    کہ مٹ جانے سے جن کے مٹ گیا دل

    مأخذ :
    • کتاب : Nairang-e-Khayaal (Pg. 63)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے