وہ امنگیں وہ ہا و ہو ہی نہیں
وہ امنگیں وہ ہا و ہو ہی نہیں
دل کہاں اب کہ آرزو ہی نہیں
باغ عالم کا انقلاب نہ پوچھ
اب وہ پہلا سا رنگ و بو ہی نہیں
کیجیے کیا تصور آرائی
کوئی تصویر روبرو ہی نہیں
دیکھتا ہوں کہ آج اشکوں میں
دل کے ٹکڑے بھی ہیں لہو ہی نہیں
شوق سے وہ حجاب فرمائیں
اب مجھے خبط جستجو ہی نہیں
یہ دل نامراد کا عالم
اور سب کچھ ہلے آرزو ہی نہیں
ان سے شکوہ فضول ہے سیمابؔ
قابل التفات تو ہی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.