Font by Mehr Nastaliq Web

جنت جو ملے لا کر مے خانے میں رکھ دینا

سیماب اکبرآبادی

جنت جو ملے لا کر مے خانے میں رکھ دینا

سیماب اکبرآبادی

MORE BYسیماب اکبرآبادی

    جنت جو ملے لا کر مے خانے میں رکھ دینا

    کوثر مرے چھوٹے سے پیمانے میں رکھ دینا

    میت نہ مری جا کے ویرانے میں رکھ دینا

    پیمانوں میں دفنا کر مے خانے میں رکھ دینا

    سجدوں پہ نہ دے مجھ کو ارباب حرم طعنے

    کعبے کا کوئی پتھر بت خانے میں رکھ دینا

    وہ جس سے سمجھ جائے روداد مرے غم کی

    ایسا بھی کوئی ٹکڑا افسانے میں رکھ دینا

    اک جام سے میکش کا کیا ہوگا بھلا ساقی

    مے خانے کا مے خانہ پیمانے میں رکھ دینا

    سیمابؔ یہ فطرت کا ادنیٰ سا اشارہ ہے

    خاموشی سے اک بجلی پروانے میں رکھ دینا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے