Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

پر میرے کاٹ کے صیاد نے ارشاد کیا

شبیر ساجد مہروی

پر میرے کاٹ کے صیاد نے ارشاد کیا

شبیر ساجد مہروی

MORE BYشبیر ساجد مہروی

    پر میرے کاٹ کے صیاد نے ارشاد کیا

    لے قفس کھول دیا جا تجھے آزاد کیا

    میں تیری ایسی نوازش کے تصدق پیارے

    تو نے اپنا سمجھ کے مجھے برباد کیا

    اپنی زلفوں کا بنا کر مجھے قیدی اس نے

    پھر یہ ارشاد کیا، جا تجھے آزاد کیا

    تیری آنکھوں نے عطا کی ہے وہ مستی ساقی

    ہم جہاں بیٹھ گئے، میکدہ آباد کیا

    صورتِ پیرِ مغاں آئی نظر ساغر میں

    مئے جو پیتے ہوئے رندوں نے خدا یاد کیا

    ہم کو زاہد نہ سمجھ یادِ خدا سے غافل

    جب کوئی دیکھا حسیں ہم نے خدا یاد کیا

    میں دم دوں گا نہ تجھے، اس کو نہ جب تک دیکھوں

    اے اجل! ٹھہر کہ آج اس نے مجھے یاد کیا

    کون کہتا ہے کہ تم نے مجھے برباد کیا

    باخدا، شاد کیا، شاد کیا، شاد کیا

    بہرِ تسکیں چلی آئی غریب الوطنی

    ہم نے ساجدؔ جو کبھی اپنا وطن یاد کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے