پر میرے کاٹ کے صیاد نے ارشاد کیا
پر میرے کاٹ کے صیاد نے ارشاد کیا
لے قفس کھول دیا جا تجھے آزاد کیا
میں تیری ایسی نوازش کے تصدق پیارے
تو نے اپنا سمجھ کے مجھے برباد کیا
اپنی زلفوں کا بنا کر مجھے قیدی اس نے
پھر یہ ارشاد کیا، جا تجھے آزاد کیا
تیری آنکھوں نے عطا کی ہے وہ مستی ساقی
ہم جہاں بیٹھ گئے، میکدہ آباد کیا
صورتِ پیرِ مغاں آئی نظر ساغر میں
مئے جو پیتے ہوئے رندوں نے خدا یاد کیا
ہم کو زاہد نہ سمجھ یادِ خدا سے غافل
جب کوئی دیکھا حسیں ہم نے خدا یاد کیا
میں دم دوں گا نہ تجھے، اس کو نہ جب تک دیکھوں
اے اجل! ٹھہر کہ آج اس نے مجھے یاد کیا
کون کہتا ہے کہ تم نے مجھے برباد کیا
باخدا، شاد کیا، شاد کیا، شاد کیا
بہرِ تسکیں چلی آئی غریب الوطنی
ہم نے ساجدؔ جو کبھی اپنا وطن یاد کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.