Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

میری حیرت کیوں تجھے منظور ہے

شبیر ساجد مہروی

میری حیرت کیوں تجھے منظور ہے

شبیر ساجد مہروی

MORE BYشبیر ساجد مہروی

    میری حیرت کیوں تجھے منظور ہے

    دل میں رہ کر آنکھ سے مستور ہے

    اتنا وہ ظاہر ہوا کہ چھپ گیا

    بے حجابی کا عجب دستور ہے

    کس کا فتویٰ کون سولی پر چڑھا

    آپ مفتی آپ ہی منصور ہے

    اے عطائے یار میں صدقے تیرے

    بے طلب جھولی میری بھرپور ہے

    اللہ اللہ کوئے جاناں کی زمیں

    ذرہ ذرہ جلوہ گاہِ طور ہے

    چشمِ ساقی کی کرامت دیکھیے

    آج واعظ بھی نشے میں چور ہے

    جلوہ فرما کون ہے یہ مہ جبیں

    ساری محفل آج نور و نور ہے

    اور تو کچھ بھی نہیں ساجدؔ کے پاس

    آپ کی نسبت پہ یہ مغرور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے