میری حیرت کیوں تجھے منظور ہے
میری حیرت کیوں تجھے منظور ہے
دل میں رہ کر آنکھ سے مستور ہے
اتنا وہ ظاہر ہوا کہ چھپ گیا
بے حجابی کا عجب دستور ہے
کس کا فتویٰ کون سولی پر چڑھا
آپ مفتی آپ ہی منصور ہے
اے عطائے یار میں صدقے تیرے
بے طلب جھولی میری بھرپور ہے
اللہ اللہ کوئے جاناں کی زمیں
ذرہ ذرہ جلوہ گاہِ طور ہے
چشمِ ساقی کی کرامت دیکھیے
آج واعظ بھی نشے میں چور ہے
جلوہ فرما کون ہے یہ مہ جبیں
ساری محفل آج نور و نور ہے
اور تو کچھ بھی نہیں ساجدؔ کے پاس
آپ کی نسبت پہ یہ مغرور ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.