دل میں دلبر نہیں تو کچھ بھی نہیں
دل میں دلبر نہیں تو کچھ بھی نہیں
یار جب گھر نہیں تو کچھ بھی نہیں
دل میں کتنا ہی درد ہو لیکن
چشم جب تر نہیں تو کچھ بھی نہیں
عقل ہو لاکھ ہوشیار مگر
عشق رہبر نہیں تو کچھ بھی نہیں
شکل کتنی ہی صوفیانہ ہو
صاف اندر نہیں تو کچھ بھی نہیں
ظاہری ٹھاٹھ سے ہے کیا حاصل
دل سکندر نہیں تو کچھ بھی نہیں
مت سمجھ اپنے آپ کو قطرہ
تو سمندر نہیں تو کچھ بھی نہیں
آپ، مانا کہ ہیں بڑے داتا
لطف ہم پر نہیں تو کچھ بھی نہیں
صاف کر قلب کو، جہاں تک ہو
یہ جو بہتر نہیں تو کچھ بھی نہیں
عاشقی اور پھر تلاشِ سکوں
حال ابتر نہیں تو کچھ بھی نہیں
اپنے مسجود کا اگر ساجدؔ
تو مظہر نہیں تو کچھ بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.