جس کو دیکھو اسے دعویٰ ہے شناسائی کا
جس کو دیکھو اسے دعویٰ ہے شناسائی کا
بھید سمجھا نہ کوئی اس بتِ ہرجائی کا
سب میں موجود ہے اور پھر بھی ہے سب سے جدا
کیا عجب ڈھنگ ہے اس یار کی یکتائی کا
ایک پل بھی وہ جدا میرے تصور سے نہیں
کتنا احساس ہے ان کو میری تنہائی کا
بات تیری ہے اگر لوگ اڑاتے ہیں مذاق
ورنہ کچھ اس میں بگڑتا نہیں سودائی کا
آسماں پر یہ نہیں جلوہ فگن قوس و قزح
ایک حلقہ سا ہے خاکہ ہے تیری انگڑائی کا
حسن بے تاب ہے خود جلوہ نمائی کے لیے
مفت میں نام ہے بدنام، تمنائی کا
ان کی نظروں نے ہی مارا ہے مجھے اے ساجدؔ
جن کی نظروں میں ہے اعجاز مسیحائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.