Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

جس کو دیکھو اسے دعویٰ ہے شناسائی کا

شبیر ساجد مہروی

جس کو دیکھو اسے دعویٰ ہے شناسائی کا

شبیر ساجد مہروی

MORE BYشبیر ساجد مہروی

    جس کو دیکھو اسے دعویٰ ہے شناسائی کا

    بھید سمجھا نہ کوئی اس بتِ ہرجائی کا

    سب میں موجود ہے اور پھر بھی ہے سب سے جدا

    کیا عجب ڈھنگ ہے اس یار کی یکتائی کا

    ایک پل بھی وہ جدا میرے تصور سے نہیں

    کتنا احساس ہے ان کو میری تنہائی کا

    بات تیری ہے اگر لوگ اڑاتے ہیں مذاق

    ورنہ کچھ اس میں بگڑتا نہیں سودائی کا

    آسماں پر یہ نہیں جلوہ فگن قوس و قزح

    ایک حلقہ سا ہے خاکہ ہے تیری انگڑائی کا

    حسن بے تاب ہے خود جلوہ نمائی کے لیے

    مفت میں نام ہے بدنام، تمنائی کا

    ان کی نظروں نے ہی مارا ہے مجھے اے ساجدؔ

    جن کی نظروں میں ہے اعجاز مسیحائی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے