Font by Mehr Nastaliq Web

محو جمال یار کو فرصت بندگی نہیں

شاہ علیم اللہ صفی

محو جمال یار کو فرصت بندگی نہیں

شاہ علیم اللہ صفی

MORE BYشاہ علیم اللہ صفی

    محو جمال یار کو فرصت بندگی نہیں

    اس کے حضور بندگی کفر ہے بندگی نہیں

    عشق کی رسم و راہ کا اس کو شعور ہی نہیں

    کفر کی بارگاہ میں جس کی جبیں جھکی نہیں

    مست نگاہ سے تری عرق مئے طہور ہوں

    تیرے جمال کی قسم اب کوئی تشنگی نہیں

    وہ بھی میرے فراق میں میری طرح ہے مضطرب

    بچھڑے زمانہ ہو گیا درد میں کچھ کمی نہیں

    محو صلوٰۃ دائمی کون و مکاں سے بے خبر

    سجدہ نہیں رکوع نہیں کوئی قیام ہی نہیں

    تیرے حریم ناز کا اس کو ملا نہ راستہ

    جس کی سیاہ رات میں اشکوں کی روشنی نہیں

    یاد حبیب کے بغیر جتنا بھی وقت ہم جیے

    اتنا ہی وقت بے گماں شامل زندگی نہیں

    شمع شب فراق سے حال علیمؔ پوچھ لے

    تو نے لگائی تھی جو آگ تیری قسم بجھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے