Sufinama

شیخ جی تشریف یوں بہر زیارت لے چلے

اوگھٹ شاہ وارثی

شیخ جی تشریف یوں بہر زیارت لے چلے

اوگھٹ شاہ وارثی

MORE BY اوگھٹ شاہ وارثی

    شیخ جی تشریف یوں بہر زیارت لے چلے

    لب پہ توبہ ان بتوں کی دل میں الفت لے چلے

    لائے تھے ملک عدم سے ساتھ اپنے نقد دل

    اب یہاں سے اس کے بدلے داغ فرقت لے چلے

    ضعف کافی ہے مجھے صحرا نوردی میں جنوں

    کون اپنے سر سے بار تاب و طاقت لے چلے

    دین و ایماں نذر دے کے محفل جاناں سے ہم

    دل کے دل ہی میں رہے ارماں یہ حسرت لے چلے

    قتل کچھ عاشق ہوئے مقتل میں اس کے ہاتھ سے

    کچھ پھرے مایوس اور شوق شہادت لے چلے

    کچھ مزہ تنہائی میں صحرا نوردی کا نہیں

    ہاں چلوں گر ساتھ اپنے جوش وحشت لے چلے

    نکلا مے خانہ سے جب اوگھٹؔ تو پوچھا شاہ جیؔ

    یہ بغل میں کیا دبائے آپ حضرت لے چلے

    مآخذ:

    • Book : فیضان وارثی المعروف زمزمۂ قوالی (Pg. 26)
    • Author : اوگھٹ شاہ وارثی
    • مطبع : جید برقی پریس، دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY