منصور نے تو سولی پہ خود کو چڑھا کے پی
دلچسپ معلومات
مشہور قوال کلن خاں کا پڑھا ہوا کلام۔
منصور نے تو سولی پہ خود کو چڑھا کے پی
تبریز نے نثار کو اپنی کھچا کے پی
سرمست تھے وہ مست کے سر کو کٹا کے پی
تقلید ان کی چاہیے ساغر اٹھا کے پی
پینا جو چاہتا ہے تو خود کو مٹا کے پی
یوسف نے اپنے حسن کا جلوہ دیکھا کے پی
عیسیٰ نے قم باذنی سے مردے جلا کے پی
ایوب نے بھی صبر کی حد کو مٹا کی پی
تو آستانۂ ساقی کوثر پہ جا کے پی
گم کردہ کارواں ہے تو منزل پہ جا کے پی
اکبر سا نوجوان بھی شہ سے جدا ہوا
آنکھوں کے سامنے حلق اصغر کا چھل گیا
کس کس کا ذکر کیجیے سب گھر ہی لٹ گیا
دیکھے تو کوئی آج کلیجہ حسین کا
گھر کو لٹا کے پی کبھی سر کو کٹا کے پی
زاہد کو مے عشق کے پینے کا دم نہیں
آنکھوں میں حسن یار کی مستی کا رنگ نہیں
پڑھتا ہے تو نماز مگر چشم نم نہیں
مستوں کا جھومنا بھی عبادت سے کم نہیں
پینے کا جب مزا ہے کہ دنیا لٹا کے پی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.