زمیں میں آسماں میں عرش پر کعبہ میں مندر میں
دلچسپ معلومات
محمد علی بخش واعظ قوال نے حضرت رازؔ کی غزل میں دوسرے شعرا کی تظمین و اشعار ملا کر پڑھا ہے۔
زمیں میں آسماں میں عرش پر کعبہ میں مندر میں
عبث تالاش تھی چھپ کر وہ بیٹھے تھے مرے گھر میں
ڈھونڈھ آیا اس کو سارے زمانے میں چار سو
کوکو پکارتا رہا ہر چند کو بہ کو
آخر ہوا یہ علم مجھے بعد جستجو
عبث تالاش تھی چھپ کر وہ بیٹھے
عبث تالاش تھی چھپ کر وہ بیٹھے تھے میرے دل میں
پردہ نہیں حجاب نہیں کوئی روبرو
تو اس کا شیفتہ ہے اسے تیری آرزو
گردن جھکا کے دیکھ تو خود ہی کہے گا تو
عبث تالاش تھی چھپ کر وہ بیٹھے تھے میرے گھر میں
ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
عبث تلاش تھی چھپ کر وہ بیٹھے تھے میرے دل میں
دل را اگر تو صاف کنی ہمچو آئینہ
بے شک جمال یار بہ بینی معائنہ
او در دل منست و دل من بدست او
چوں آئینہ بدست من و من در آئینہ
عبث تالاش تھی چھپ کر وہ بیٹھے تھے میرے دل میں
بھنور میں پڑ کے ڈوبے یا لگے جا کر کنارے پر
اسی کا نام لے کر ڈال دی کشتی سمندر میں
ہرچہ بادہ باد باد اسی کا نام لے کر ڈال دی کشتی سمندر میں
وہ روشن چہرہ دیکھا ہے کسی کا جس کی تابش ہے
نہ اس ماہ منور میں نہ اس خورشید خاور میں
محمد مصطفیٰ کو حضرت یوسف سے کیا نسبت
وہ مطلوب زلیخا تھے یہ محبوب خدا ٹھہرے
رخ باصفائے او را چہ مناسبت بہ دیگر
بخدا کہ در ملاحت اثرے قمر ندارد
وہ روشن چہرہ دیکھا ہے کسی کا جس کی تابش ہے
نہ اس ماہ منور میں نہ اس خورشید خاور میں
گفتم کہ روشن از قمر گفتا کہ رخسار منت
وہ روشن چہرہ دیکھا ہے کسی کا جس کی تابش ہے
ادھر دل ہے اُدھر آئینہ حیراں ہوں کہ دونوں میں
ہے اک صورت نہیں ہے فرق مجھ میں اور دلبر میں
دو دو دو آئینے حیراں ہوں کیا ہو فیصلہ
یار میرا عکس رویا عکس روئے یار میں
ہے اک صورت نہیں ہے فرق مجھ میں اور دلبر میں
وہ بے چینی و بے تابی کہ دم بھر بھی نہ تھا آرام
ملا آرام اب ہم کو نہ دلبر ہے نہ دل ربا ہے
ایک ہی دل تھا وہ نذر ناوک جاناں ہوا
اب نہ دل ہے نہ دل گیر کی حاجت نہیں
ملا آرام اب ہم کو نہ دلبر ہے نہ دل ربا ہے
گنہ گارو نہ گھبراؤ ادھر آؤ ذرا رو لو
جہنم کو بجھا دے وہ اثر ہے دیدۂ تر میں
ہم گنہ گار جو روتے ہیں تو آتی ہے ندا
باز آ باز آ ہر آں چہ ہستی باز آ
گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ
ایں در گہ ما در گہ نا امیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
گنہ گارو نہ گھبراؤ ادھر آؤ ذرا رو لو
زاری و گریہ عجب سرمایہ ایست
مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست
گنہ گارو نہ گھبراؤ ادھر آؤ ذرا رو لو
گھبرا رہے ہو حشر میں کیوں اس قدر امیر
اتنی ہی سی تو بات ہے کہہ دو خطا ہوئی
گنہ گارو نہ گھبراؤ ادھر آؤ ذرا رو لو
پھر اس کی شان کریمی کے حوصلے دیکھے
گناہ گار یہ کہہ دے گناہ گاروں میں
گنہ گارو نہ گھبراؤ ادھر آؤ ذرا رو لو
جو پی کر پھر کبھی پیاسا نہ ہونا کیا مگر اے رازؔ
کسی خنجر کا پانی پڑ گیا ہے حوض کوثر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.