تھا رخ روشن پر اس کے میری صورت کا نقاب
دلچسپ معلومات
محمد علی بخش واعظ قوال نے حضرت رازؔ کی غزل میں دوسرے شعرا کی تظمین و اشعار ملا کر پڑھا ہے۔
تھا رخ روشن پر اس کے میری صورت کا نقاب
پھٹ گیا جب ابر نکلا جگمگاتا آفتاب
واللہ خودی تیری ہے خیبر کا باب
حیدر کی طرح توڑ کہ اٹھ جائے حجاب
ہر شئے ہے وہی اس کے سوا کچھ بھی نہیں
ہے ذات کے چہرہ پہ یہ صورت کا نقاب
پھٹ گیا جب ابر نکلا جگمگاتا آفتاب
جس کو غیر یار سمجھا تھا وہ عین یار تھا
غرق دریائے خجالت ہوں میں ہو کر آب آب
جنہیں ڈھونڈھا کیے دیر و دل نشیں دل نشیں تھے وہ
سمجھتے تھے جنہیں ہم دور تر ہم سے قریں تھے وہ
جہاں کی خاک چھانی عشق میں جن کے یہیں تھے وہ
ہوا اے فیض معلوم ایک مدت میں ہمیں تھے وہ
جپا کرتے تھے جن کے نام کی دن رات سمرن ہم
جس کو غیر یار سمجھا تھا وہ عین یار تھا
کفر و ایماں دونوں سد راہ وصل یار ہیں
تو اگر یہ سد نہ توڑے گا نہ ہوگا فتح باب
کفر و دیں ہر دو حجاب روئے او
تا نہ برداری روی کہ سوئے او
تو اگر یہ سد نہ توڑے گا نہ ہوگا فتح باب
رسائی نیست تا سر منزل او کفر و ایماں را
کہ کعبہ دیر سد رہ بود گبر و مسلماں را
تو اگر یہ سد نہ توڑے گا نہ ہوگا فتح باب
یاد تیری در حقیقت بھول ہے اے مرو رہ
بھولنا بھی بھول جائے گا تو ہو گا کامیاب
گم شدن در گم شدن دین منست
تو در و گم شو وصال اینست و بس
گم شدن گم کن کمال اینست و بس
بھولنا بھی بھول جائے گا تو ہو گا کامیاب
ایک بوٹا میرے دل کا آسمان لالہ زار
ایک سورہ سارا عالم دل مرا ام الکتاب
یہ دل نے ایسی کچھ پائی ہے وسعت
کہ جس کے آگے پست عرش بریں ہے
ایک بوٹا میرے دل کا آسمان لالہ زار
اگر از وسعت من آگہی یا بےشوی حیراں
کہ عالم در حق و حق در دل و دل در من اے یاراں
ہے بڑی وسعت مری میں ہوں وہ بحر بے کنار
ایک بوٹا میرے دل کا آسمان لالہ زار
ایک سورہ سارا عالم دل مرا ام الکتاب
عرش تن ہے چار عنصر حاملان عرش ہیں
روح الرحمن علی العرش استویٰ با آب و تاب
جب ادھر ہر آن میں اس یار کی اک شان ہے
ہے دل عارف ادھر بھی راز بحر اضطراب
اس کی میری مواقفت مشکل ہے
تسلیم و رضا کی منزلت مشکل ہے
ہے جس کا کمال کل یوم ھوا فی شان
ایسے مالک کی عبدیت مشکل ہے
جب ادھر ہر آن میں اس یار کی اک شان ہے
ہے دل عارف ادھر بھی راز بحر اضطراب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.