شراب الفت پلا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
شراب الفت پلا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
تو مست خواجہ بنا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
رہے یہ مے خانہ ترا قائم چلے یہ دور شراب دائم
ہمیں بھی اب تو جگا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
شراب ایسی پلا دے ساقی رہے خبر اور نہ ہوش باقی
دوئی کا پردہ اٹھا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
پلا کے ساقی شراب وحدت کھلا کے ہم کو کباب الفت
تو رند مشرب بنا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
ازل سے بھوکا شراب کا تھا خدا خدا کر کے آج پایا
سبو کو منہ سے لگا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
رہے سلامت شراب خانہ کہ مے پرستوں کا ہے ٹھکانہ
جو تجھ سے مانگے پلا دے ساقی عذاب کیسا کیسا ثواب کیسا
یہی تو دل میں بھری ہے حسرت یہی تو ہے عیشؔ کو لگی رٹ
شراب خواجہ پلا دے ساقی عذاب کیسا ثواب کیسا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.