Font by Mehr Nastaliq Web

دعا یہ مانگنے یارب ترے دربار میں آئے

نا معلوم

دعا یہ مانگنے یارب ترے دربار میں آئے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    دعا یہ مانگنے یارب ترے دربار میں آئے

    خزاں تا حشر یارب نہ حسن یار میں آئے

    خریدار اپنے یوسف کے لیے آئینہ دل کو

    لیے ہاتھوں میں ہم بھی حسن کے بازار میں آئے

    بہت ہی سخت جاں ہوں گا جسے ذبح کیا قاتل

    کلائی میں ضرب دانتےؔ تری تلوار میں آئے

    وفا ہو یا جفا ہو وصل ہو یا شب جدائی ہو

    ہمیں منظور ہے جو کچھ مزاج یار میں آئے

    ہمارا مرض سب کافور ہو جائے گا یارو

    خیال یار جاناں اب دل بیمار میں آئے

    عدو کے بیٹھ کر پہلو میں مجھ سے پوچھتے کیا ہو

    کہو شوقین کیسے آج بزم یار میں آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے