کل ہزارے میں نظر ایک گل بدن جو آ گیا
کل ہزارے میں نظر ایک گل بدن جو آ گیا
ہاتھ ململ میں رہا دل پھول سا کمھلا گیا
ہیں سکھ ملتا نہیں مجھ کو اس سے قسم
جیسے تو اپنی چکن پٹ آں کر دکھلا گیا
خواہش اب مجھ کو نہیں ہے شیرینی تیرے لب کی
جامہ عریاں ہمارے دل کو ایسا بھا گیا
مارے غصہ کے بھویں سمٹی ہوئی ہیں یار کی
دوڑتا تارے لیے جو سامنے سے آ گیا
رات بھر دھویا کیا دریاۓ مے میں ہاتھ کو
شک ذرا سی چھینٹ کا جو میرے دل میں آ گیا
آج آتے ہیں وہ کیا میری نظر کم خواب میں
یار کی جالوں کی آنکھیں کوئی کیا بھا گیا
طول دینا تھا نہیں از بد نظر کو اے صحابؔ
اتنے ہی کپڑوں میں دل تو اب اکتا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.