Font by Mehr Nastaliq Web

کل ہزارے میں نظر ایک گل بدن جو آ گیا

نا معلوم

کل ہزارے میں نظر ایک گل بدن جو آ گیا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    کل ہزارے میں نظر ایک گل بدن جو آ گیا

    ہاتھ ململ میں رہا دل پھول سا کمھلا گیا

    ہیں سکھ ملتا نہیں مجھ کو اس سے قسم

    جیسے تو اپنی چکن پٹ آں کر دکھلا گیا

    خواہش اب مجھ کو نہیں ہے شیرینی تیرے لب کی

    جامہ عریاں ہمارے دل کو ایسا بھا گیا

    مارے غصہ کے بھویں سمٹی ہوئی ہیں یار کی

    دوڑتا تارے لیے جو سامنے سے آ گیا

    رات بھر دھویا کیا دریاۓ مے میں ہاتھ کو

    شک ذرا سی چھینٹ کا جو میرے دل میں آ گیا

    آج آتے ہیں وہ کیا میری نظر کم خواب میں

    یار کی جالوں کی آنکھیں کوئی کیا بھا گیا

    طول دینا تھا نہیں از بد نظر کو اے صحابؔ

    اتنے ہی کپڑوں میں دل تو اب اکتا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے