Font by Mehr Nastaliq Web

دور میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے

نا معلوم

دور میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    دور میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے

    مے کشوں کے سر پہ یا رب پیر مے خانہ رہے

    جس پہ پڑ جاوے نظر تیری وہ دیوانہ رہے

    ہاں نگاہ یار طرز بے حجابانہ رہے

    کیا اسی کو کہتے ہیں رسم وفاداری صنم

    دشمنی ہم سے رہے غیروں سے یارانہ رہے

    پھر نہ پوچھیں گے مجھے وہ قبر میں منکر نکیر

    مرتے دم یارب خیال روئے جانانہ رہے

    ایسے ساقی کے میں صدقہ جو پلائے بھر کے جام

    ساقیا ہر دم سلامت تیرا مے خانہ رہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے