دور میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے
دور میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے
مے کشوں کے سر پہ یا رب پیر مے خانہ رہے
جس پہ پڑ جاوے نظر تیری وہ دیوانہ رہے
ہاں نگاہ یار طرز بے حجابانہ رہے
کیا اسی کو کہتے ہیں رسم وفاداری صنم
دشمنی ہم سے رہے غیروں سے یارانہ رہے
پھر نہ پوچھیں گے مجھے وہ قبر میں منکر نکیر
مرتے دم یارب خیال روئے جانانہ رہے
ایسے ساقی کے میں صدقہ جو پلائے بھر کے جام
ساقیا ہر دم سلامت تیرا مے خانہ رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.